عفو و در گزر

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - خطا و قصور معاف کرنا۔ "اچھے اخلاق کی بہت سے قسمیں ہیں، مثلاً ہمدردی، عفو و درگزر، اخلاص، راست گوئی۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٣٦ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عفو' کے بعد 'و' بطور حرف عطف لگانے کے بعد فارسی سے ماخوذ اسم 'درگزر' (در+گزر) لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٩٠٦ء کو "الحقوق والفرائض" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خطا و قصور معاف کرنا۔ "اچھے اخلاق کی بہت سے قسمیں ہیں، مثلاً ہمدردی، عفو و درگزر، اخلاص، راست گوئی۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٣٦ )

جنس: مذکر